Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts

Sunday, 10 June 2018

Be tahasha hain taare lekin

بے تحاشہ ھیں تارے لیکن
چاند بس ایک عددھے .. حد ھے
تیری ہر بات ہے سر آنکھوں
میری ہر بات رَد ہے .. حد ہے!

Wednesday, 2 May 2018

مُجھ سے اِتنے قریب ہو جاؤ

مُجھ سے اِتنے قریب ہو جاؤ
اُداس شب کی صلیب ہو جاؤ...
میری بانہوں کو سونپ دو سب کچھ
میری خاطِـــــــر غریب ہو جاؤ...!
مُجھ میں اُترو میرے لہُو کی طرح
میری رُوح کے رقیب ہو جاؤ...!
کچھ نہ بولو مگر کہو سب کچھ
آج ایسے خطیب ہو جاؤ...!
تُم جو چُھو لو تو دَرد گھٹ جاۓ
آؤ ! میرے طبیب ہو جاؤ۔۔۔۔!

اداس بارشِ میں کیا کروں

اداس بارشِ میں کیا کروں گا میں؟
حال جو پوچھا تو رو پڑوں گا میں۔

Tuesday, 6 February 2018

مَیں نے ہر بار نَئی آنکھ سے دیکھا تُجھ کو

مَیں نے ہر بار نَئی آنکھ سے دیکھا تُجھ کو
..مُجھ کو ہر بار نَیا عِشق ہُوا ہے تُجھ سے

نا یہ زندگی میری زندگی نا یہ داستاں میری داستاں

نا یہ زندگی میری زندگی نا یہ داستاں میری داستاں
میں خیال و وہم سے دور ہوں مجھے آج کوئی سدا نا دے

گر یہی رونا ہے شب_ غم تو

گر یہی رونا ہے شب_ غم تو
پھوٹ جائیں گی تا سحر آنکھیں،

یہ نرالا ہے شرم کا انداز
بات کرتے ہو ڈھانک کر آنکھیں،

گلاب آنکھیں ، شراب آنکھیں
یہی تو ہیں لا جواب آنکھیں

عجیب تھا گفتگو کا عالم
سوال کوئی ، جواب آنکھیں

کبھی چھپتی ہیں راز دِل كے
کبھی ہیں دِل کی کتاب آنکھیں

ﺟﺐ ﭼﺎﮨﺎ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﭘﮩﻨﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﭼﺎﮨﺎ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ

ﺟﺐ ﭼﺎﮨﺎ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﭘﮩﻨﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﭼﺎﮨﺎ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ
ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻟﻤﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﺟﻮﮌﺍ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ

اس کی چپ کی بھی لاکھ تفسیریں

اس کی چپ کی بھی لاکھ تفسیریں
میرا سارا کلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے معنی

یہ منظر ہو یہ فرصت ہو

یہ منظر ہو یہ فرصت ہو
ہم باتیں کریں اتنی کے سورج تھک کے ڈھل جائے

بہتے دریا کی موج سے پوچھو

بہتے دریا کی موج سے پوچھو
عاشقی چشمِ “ تَر کا میلہ ہے

اِتنا مانوُس ھُوں سنّاٹے سے

اِتنا مانوُس ھُوں سنّاٹے سے
کوئی بولے تو بُرا لگتا ھے

یہ خنک رت ہے یہ سال کا پہلا لمحہ

یہ خنک رت ہے یہ سال کا پہلا لمحہ
! دل کی خواہش ہے کہ،محسن، کوئی یاد آئے

تیری یادیں بھی __لاﮈلی ہیں بہت

تیری یادیں بھی __لاﮈلی ہیں بہت
ساتھ سوتی ہیں ساتھ أٹھتی ہیں

‏دکھ جنازے نہیں ھوا کرتے

‏دکھ جنازے نہیں ھوا کرتے
دوسرے کب انہیں اٹھاتے ھیں

میں نے کروٹ بدل کے دیکھا ھے

میں نے کروٹ بدل کے دیکھا ھے
یاد تم اس طرف بھی آتے ھو

تم گزرو اور وقت نہ ٹھہرے, ایسا تھوڑی ھو سکتا ہے


تم گزرو اور وقت نہ ٹھہرے, ایسا تھوڑی ھو سکتا ہے
یاد آؤ اور درد نہ بَھڑکے، ایسا تھوڑی ھو سکتا ھے

صبر کِیا ھے، شُکر کِیا ھے، راضی ھو کر دیکھ لیا ھے
لیکن دل کو چین آ جائے، ایسا تھوڑی ھو سکتا ھے

تَرکِ محبّت کر لینے سے تَرکِ محبّت ھو بھی جائے
کوئی اُسے جا کر سمجھائے، ایسا تھوڑی ھو سکتا ھے

گُذرا لمحہ گُزر گیا ھے، اُس پر اَشک بہانا کیسا
مُٹھی میں پانی آ جائے، ایسا تھوڑی ھو سکتا ھے

پہلے جیسا نہیں ھے کُچھ بھی، اِس پہ تعجب کرنا کیسا
دھوُپ ڈھلے اور رنگ نہ بدلے، ایسا تھوڑی ھو سکتا ھے

دل کے صحرا میں ، کوئی آس کا جگنو بھی نہیں


دل کے صحرا میں ، کوئی آس کا جگنو بھی نہیں
اتنا رویا ھُوں ، کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں

قصۂ درد لیے پھرتی ھے ، گلشن کی ھَوا
میرے دامن میں ، تیرے پیار کی خوشبو بھی نہیں

چھِن گیا میری نگاھوں سے بھی ، احساسِ جمال
تیری تصویر میں ، پہلا سا وہ جادو بھی نہیں

دل وہ کمبخت کہ ، دھڑکے ھی چلا جاتا ھے
یہ الگ بات کہ ، تُو زینتِ پہلو بھی نہیں

یہ عجب راہ گزر ھے ، کہ ھیں چٹانیں تو بہت
اور سہارے کو ، تیری یاد کے بازو بھی نہیں

Tuesday, 4 April 2017

Tum jo hasti ho to pholon ki ada

تم جو ہنستی ہو تو پھولوں کی ادا لگتی ہو
اور چلتی ہو تو اک بعد صباء لگتی ہو


دونوں ہاتھوں میں چھپا لیتی ہو اپنا چہرہ

مشرقی حور ہو ، دلہن کی حیا لگتی ہو


کچھ نا کہنا میرے کاندھے پہ جھکا کر سر کو

کتنی معصوم ہو ، تصویر وفا لگتی ہو


بات کرتی ہو تو ساگر سے خنک جاتے ہیں

لہر کا گیت ہو ، کوئل کی صدا لگتی ہو


کس طرف جاؤگی زلفوں کے یہ بادل لے کر ؟

آج مچلی ہوئی ساون کی گھٹا لگتی ہو


تم جسے دیکھ لو ، پینے کی ضرورت کیا ہے ؟

زندگی بھر جو رہے ، ایسا نشہ لگتی ہو


میں نے محسوس کیا تم سے دو باتیں کر کے

تم زمانے مین زمانے سے جدا لگتی ہو . . .

Saturday, 25 March 2017

Nazar nahi ati jis din

نظر نہیں آتی جس دن خواب میں آہ جاتی ہے
زندگی تجھی پہ وقف ہوئی جاتی ہے . . . !

Tum Hasti ho Din charta hy



تم ہستی ہو دن چڑھتا ہے
تیری زلف کھلے تو شام ہوئی . .

جب سے تجھ کو دیکھا جانا
ہر شے خاص و عام ہوئی . . . !

جب تو بولتی رہتی ہے زندگی کتنی حَسِین لگتی ہے . . .
جب جب جانا چُپ ہوئی تم ، خاموشی بدنام ہوئی . . !

جو بھی تجھ کو دیکھے جانا اپنا سب کچھ کھو دے وہ . . .
تیرے جیسا کوئی نہیں ہے اپنی مثل تم آپ ہوئی . . . !