تیرا زیاں رہا ہوں میں، اپنا زیاں رہوں گا میں
تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں
جاز کی دھن اداس ہے، دل بھی بہت اداس ہے
جانے کہاں بسے گی تو، جانے کہاں رہوں گا میں
تیرا زیاں رہا ہوں میں، اپنا زیاں رہوں گا میں
تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں
جاز کی دھن اداس ہے، دل بھی بہت اداس ہے
جانے کہاں بسے گی تو، جانے کہاں رہوں گا میں
مُجھ سے اِتنے قریب ہو جاؤ
اُداس شب کی صلیب ہو جاؤ...
میری بانہوں کو سونپ دو سب کچھ
میری خاطِـــــــر غریب ہو جاؤ...!
مُجھ میں اُترو میرے لہُو کی طرح
میری رُوح کے رقیب ہو جاؤ...!
کچھ نہ بولو مگر کہو سب کچھ
آج ایسے خطیب ہو جاؤ...!
تُم جو چُھو لو تو دَرد گھٹ جاۓ
آؤ ! میرے طبیب ہو جاؤ۔۔۔۔!