Showing posts with label Ghazal Poetry. Show all posts
Showing posts with label Ghazal Poetry. Show all posts

Wednesday, 2 May 2018

تیرا زیاں رہا ہوں میں

تیرا زیاں رہا ہوں میں، اپنا زیاں رہوں گا میں
تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں

جاز کی دھن اداس ہے، دل بھی بہت اداس ہے
جانے کہاں بسے گی تو، جانے کہاں رہوں گا میں

مُجھ سے اِتنے قریب ہو جاؤ

مُجھ سے اِتنے قریب ہو جاؤ
اُداس شب کی صلیب ہو جاؤ...
میری بانہوں کو سونپ دو سب کچھ
میری خاطِـــــــر غریب ہو جاؤ...!
مُجھ میں اُترو میرے لہُو کی طرح
میری رُوح کے رقیب ہو جاؤ...!
کچھ نہ بولو مگر کہو سب کچھ
آج ایسے خطیب ہو جاؤ...!
تُم جو چُھو لو تو دَرد گھٹ جاۓ
آؤ ! میرے طبیب ہو جاؤ۔۔۔۔!

Tuesday, 6 February 2018

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو


پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو

رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں
اتنا نہ تیز کیجیے ڈھولک کی تھاپ کو

اشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہوگئی
کیوں کر مٹاؤں دل سےترے غم کی چھاپ کو

کتنا ہی بے کنار سمندر ہو پھر بھی دوست
رہتا ہے بے قرار ندی کے ملاپ کو

پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں
پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو

تعریف کیا ہو قامت دلدار کی شکیبؔ
تجسیم کر دیا ہے کسی نے الاپ کو

تم گزرو اور وقت نہ ٹھہرے, ایسا تھوڑی ھو سکتا ہے


تم گزرو اور وقت نہ ٹھہرے, ایسا تھوڑی ھو سکتا ہے
یاد آؤ اور درد نہ بَھڑکے، ایسا تھوڑی ھو سکتا ھے

صبر کِیا ھے، شُکر کِیا ھے، راضی ھو کر دیکھ لیا ھے
لیکن دل کو چین آ جائے، ایسا تھوڑی ھو سکتا ھے

تَرکِ محبّت کر لینے سے تَرکِ محبّت ھو بھی جائے
کوئی اُسے جا کر سمجھائے، ایسا تھوڑی ھو سکتا ھے

گُذرا لمحہ گُزر گیا ھے، اُس پر اَشک بہانا کیسا
مُٹھی میں پانی آ جائے، ایسا تھوڑی ھو سکتا ھے

پہلے جیسا نہیں ھے کُچھ بھی، اِس پہ تعجب کرنا کیسا
دھوُپ ڈھلے اور رنگ نہ بدلے، ایسا تھوڑی ھو سکتا ھے

دل کے صحرا میں ، کوئی آس کا جگنو بھی نہیں


دل کے صحرا میں ، کوئی آس کا جگنو بھی نہیں
اتنا رویا ھُوں ، کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں

قصۂ درد لیے پھرتی ھے ، گلشن کی ھَوا
میرے دامن میں ، تیرے پیار کی خوشبو بھی نہیں

چھِن گیا میری نگاھوں سے بھی ، احساسِ جمال
تیری تصویر میں ، پہلا سا وہ جادو بھی نہیں

دل وہ کمبخت کہ ، دھڑکے ھی چلا جاتا ھے
یہ الگ بات کہ ، تُو زینتِ پہلو بھی نہیں

یہ عجب راہ گزر ھے ، کہ ھیں چٹانیں تو بہت
اور سہارے کو ، تیری یاد کے بازو بھی نہیں

Saturday, 26 July 2014

Hamaray paoon may jo rasta tha

Hamaray paoon may jo rasta tha
Rastay may payre thay
Payroon pay jitni tayiroon ki tolia hum say
Mila karti thee
Ab wo urtay urtay thake gaii hay
Wo ghani shakhay jo hum pay sayia karti thee
Wo sab murjha gaii hay
Tum usay kehna
Laboon pay lafaz hay
Lafzoon may koi dastan, kisa kahani
Jo usay aksar sunatay thay
Kisay ja kar sunay gayay!
Khabi bikhari hoi zulfoon may hum
Myhtab kay gajray bana kar bhandnay walay
Charag or ayinay kay darmayan kab say sara-y- sahil
Kharay mujoon ko taktay hay
Usay kehna
Usay hum yadd kartay hay
Usay kehna hum a kar kud usay miltay magar maktal, badaltay
Musomoo kay khon may rangeen hay or hum
Asay buaht say musomoon kay darmian tanha kharay hay
Janay kab bulawa ho, kha hum may aj bhi ik umar ki
Wafartagi or wahshatoon ka raqse jari hay, wo bazi jo
Bisatay jan pay khalii thee, abhi hum nay na jitii hay
Na hari hay
Usay kehna
Khabi milnay chalay ayay
Usay hum yadd kartay hay